Showing posts with label وقت. Show all posts
Showing posts with label وقت. Show all posts

Friday, August 31, 2012

نیند دل اور وقت


بچپن میں نیند آتی ہے
وقت بھی ہوتا ہے
مگر سونے کو دل نہیں چاہتا

جوانی میں نیند آتی ہے
سونے کو دل بھی چاہتا ہے
مگر وقت نہیں ہوتا

بڑھاپے میں سونے کو دل چاہتا ہے
وقت بھی ہوتا ہے
مگر نیند نہیں‌آتی

Tuesday, January 17, 2012

اپنے من کی دنیا آباد کر اس سے دنیا کو شاد کر



دوست کی تعاریف ہمیشہ سے زیرے بحث رہی ہے ،دوست  کبھی ہمسایوں ، کبھی اسکول کے ہم جماعتوں ، کبھی کالج کے تو کبھی دفتری رفیق کی صورت میں ظاہر ہوے. ہر دور میں دوست بھی بدلتے رہے اور دوستی کی تعریف بھی .
دوست آن باشد کہ گیرد دست دوست
بہادر شاہ  ظفر تو یہ کہ گئے لیکن دوست کا ہاتھ پکڑا تو دشمن خوب ٹھکائی کرے گا، اس لیے دشمن کا ہاتھ پکڑ کر رکھنا چاہیے
ان کو میں پچھلے پانچ سال سے جانتا ہوں وہ اکثر وہ آس پاس نظر آے ، سلام دعا ہوتی رہی کبھی کبھار بحث مباحثہ بھی ہوا ، شکر ہے بات باتوں باتوں تک ہی رہی لاتوں تک نہیں پہنچی. کئی کئی گھنٹے ایک دوسرے کی سنتے اور اپنی کہتے رہے لیکن پیچھے نہ وہ ہٹے نہ ہم ، نظریاتی اختلافات کہاں نہیں ہوتے خیر اب وہ بڑی گرمجوشی سے ملتے ہیں.
 چند سال قبل انھوں نے لکھنا شروع کیا ، نام سن کر دل پر بجلی سے گری. لیکن تحریر ہلکی پھلکی  تھیں اچھی لگی دل کو بھی اور دماغ کو بھی ویسے دل اور دماغ کا آپس میں گہرا تعلق ہے . اگر دل پر بوجھ تو دماغ پر بھی بوجھل ، اور اگر دل ہلکا تو دماغ بھی تر و تازہ. لیکن ہمیشہ ایسا نہہیں ہوتا ، کیونکہ کبھی دل دماغ کی بات مان نے سے انکار کر دیتا ہےیا پھر کبھی دماغ آپکو سمجھاتا ہے کہ یہ نہ کرو وہ  نہ کرو. دل اور دماغ کا یہ جھگڑا بعض اوقات سارا دن آپکو الجھن میں مبتلا رکھتا ہے. انکی اکثر تحریر دل کو ہلکا کرتیں ہیں تو پڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں کچھ ایسی بھی ہیں کہ پڑھ کر دماغ ہلکا ہونے لگتا ہے  تو کمپیوٹر بند کرنا پڑتا ہے.
گفتگومیں مناسب انداز سے کرتے ہیں اور حسب ضرورت  جگت بھی لگا دیتے ہیں لیکن دل کے برے نہیں ہیں.سرائکی خوب بولتے ہیں لیکن انگریزی میں مار کھاتے ہیں. جمع تفریک میں ماہر اور شطرنج کی بازی خوب لگاتے ہیں .ٹائیکواندومیں بھی کوئی بلٹ ولٹ ہے اور بوقت ضرورت استعمال کرسکتے ہیں. آجکل کسی کی تلاش میں سرگرداں اور نہایت بےچین ہیں اور مارے مارے پھرتے ہیں ، ستم ظریفی یہ کہ یہ خود بھی نہیں جانتے  اسکو کہاں اور کیونکر ڈھونڈ پائیں .  آپ سب سے گزارش ہے کہ دعا کریں انہیں جن کی تلاش ہے وہ جلد ملے تا کہ زندگی کے ان کھلے راز ان پر فشاں ہوں اور یہ ہم سب کو دیگ کھلا یں
اپنے من کی دنیا آباد کر اس سے دنیا کو شاد کر

Thursday, September 10, 2009

یہ وقت بھی گذر جائے گا

کسی بادشاہ نے اپنے ملک سے تمام پڑھے لکھے، عقلمند اور عالم قسم کے لوگوںکو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا مشورہ، منتر یا مقولہ ہے کہ کو ہر قسم کے حالات میں کام کرے، ہر صورتحال اور ہر وقت میں اس ایک سے کام چل جائے۔ کوئی ایسا مشورہ جو کہ میں اگر اکیلے میں ہوںاور میرے ساتھ کوئی مشورہ کرنے والا نہ ہو تب بھی مجھے اس کا فائدہ ہو؟


تمام لوگ بادشاہ کی اس خواہش کو سن کر پریشان ہوگئے کہ کون سی ایسی بات ہے جو کہ ہروقت، ہر جگہ کام آئے؟ جو کہ ہر صورتحال، خوشی، غم، الم، آسائش، جنگ و جدل، ہار، جیت غرضکہ ہر جگہ فٹ ہو سکے؟ِ


کافی دیر آپس میںبحث و مباحثہ کے بعد ایک بوڑھے آدمی نے ایک تجویز پیش کی جسے تمام نے پسند کیا اور وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔


انہوں نے بادشاہ کی خدمت میں ایک کاغذ پیش کیا اور کہا کہ اس میں وہ منتر موجود ہے جس کی خواہش آپ نے کی تھی۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ اس کو صرف اس وقت کھول کر دیکھیں گے جب آپ اکیلے ہوں اور آپ کو کسی کی مدد یا مشورہ درکار ہو۔ بادشاہ نے اس تجویز کومان کر کاغذ کو نہایت حفاظت سے اپنے پاس رکھ لیا۔


کچھ عرصے کے بعد پڑوسی دشمن ملک نے اچانک بادشاہ کے ملک پر حملہ کردیا۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بادشاہ اور اس کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ فوج نے اپنے بادشاہ کے ساتھ ملکر اپنے ملک کے دفاع کی بہت کوشش کی لیکن بالآخر انہیں محاذ سے پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ دشمن ملک کے سپاہی بادشاہ کے پکڑنے اس کے پیچھے لگ گئے اور بادشاہ اپنی جان بچانے کے لیئے گھوڑے پر بھاگ نکلا۔ بھاگتے بھاگتے وہ پہاڑ کے اس مقام پر پہنچ گیا کہ جہاں دوسری طرف گہری کھائی تھی اور ایک طرف دشمن کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے تھے۔


اس صورتحال میں اسے اچانک اس منتر کا خیال آیا جو کہ اسے بوڑھے شخص نے دیا تھا۔ اس نے فورا اپنی جیب سے وہ کاغذ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔ اس کاغذ پر لکھا تھا کہ "یہ وقت بھی گذر جائے گا"


بادشاہ نے حیران ہوکر تین چار دفعہ اس تحریر کو پڑھا — اسے خیال آیا کہ یہ بات تو بالکل صحیح ہے۔ ابھی کل ہی وہ اپنی حکومت میں سکون کی زندگی گزار رہا تھا اور تمام عیش و آرام اسے میسر تھا اور آج وہ دشمن سے بچنے کیلیئے بھاگتا پھر رہا ہے؟ جب آرام اور عیش کے دن گذر گئے تو یقینا یہ وقت بھی گذر جائے گا۔ یہ سوچ کر اسے سکون آگیا اور وہ پہاڑ کے آس پاس کے قدرتی مناظر کو دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اسے گھوڑوںکے سموں کی آوازیں معدوم ہوتی سنائی دیں، شاید دشمن کے سپاہی کسی اور طرف نکل گئے تھے۔


بادشاہ ایک بہادر آدمی تھا۔ جنگ کے بعد اس نے اپنے لوگوں کا کھوج لگایا جو آس پاس کے علاقوں میں چھپے ہوئے تھے۔ اپنی بچی کھچی قوت کو مجتمع کرنے کے بعد اس نے دشمن پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی۔ جب وہ جنگ جیت کے اپنی مملکت میں واپس جارہا تھا تو اس کے ملک کے تمام لوگ استقبال کے لیئے جمع تھے۔ اپنے بہادر بادشاہ کے استقبال کے لیئے لوگ شہر کی فصیل، گھروں کی چھتوں غرض کہ ہر جگہ پھول لیئے کھڑے تھے اور تمام راستے اس پر پھول نچھاور کرتے رہے۔ہر گلی کونے میں لوگ خوشی سے رقص کررہے تھے اور بادشاہ کے شان میں قصیدے گا رہے تھے۔ بادشاہ بھی اپنے فوجی قافلے کے ہمراہ بڑی شان سے کھڑا لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ دیکھو لوگ ایک بہادر کا استقبال کیسے کرتے ہیں، میری عزت میں اب اور اضافہ ہوگیا ہے، اور کیوںنہ ہوتا، دشمنوں کو ماربھگانا کوئی اتنا آسان نہیں تھا اور خصوصا ایک مکمل شکست کے بعد۔


یہ سوچتے سوچتے اچانک اسے اس کاغذ کے مضمون کا خیال آگیا "یہ وقت بھی گذر جائے گا"۔ اس خیال کے ساتھ ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اپنے آپ پر غرور ایک ہی لمحہ میں ختم ہوگیا اور اس نے سوچا کہ اگر یہ وقت بھی گذر جائے گا تو یہ وقت میرا نہیں۔ یہ لمحے یہ حالات میرے نہیں، یہ ہار اور یہ جیت بھی میری نہیں۔ہم صرف دیکھنے والے ہیں، ہر چیز کو گذر جانا ہے اور ہم صرف ایک گواہ ہیں۔


ہم صرف محسوس کرتے ہیں۔ زندگی آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ خوشی اور غم کا بھی یہی حال ہے۔ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانچیں۔ اپنی زندگی میں خوشی، مسرتوں، جیت، ہار اور غم کے لمحات کو یاد کریں۔ کیا وہ وقت مستقل تھا؟ وقت چاہے کیسا بھی ہو، آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔


زندگی گذر جاتی ہے۔ ماضی کے دوست بھی بچھڑ جاتے ہیں۔ جو آج دوست ہیں وہ کل نہیں رہیںگے۔ ماضی کے دشمن بھی نہیں ہیں اور آج کے بھی ختم ہوجائیں گے۔ اس دنیا میں کچھ بھی کوئی بھی مستقل اور لازوال نہیں۔


ہر چیز تبدیل ہو جاتی ہے لیکن تبدیلی کا قانون نہیں بدلتا۔ اس بات کو اپنی زندگی کے تناظر میں سوچیں۔آپ نے کئی تبدیلیوں کو زندگی میںدیکھا ہو گا، کئی چیزوں کو تبدیل ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی میںکئی بار غم اور شکست کے حالات آئے ہوںگے اور اسی طرح آپ نے کئی پرمسرت لمحات بھی گذارے ہوںگے۔ دونوں قسم کے وقت کو گذر جانا ہے، کچھ بھی مستقل نہیں ۔ ہم اصل میںکیا ہیں پھر؟ اپنے اصل چہرے کو پہچانیئے ۔ ہمارا چہرہ اصل نہیں ہے۔ اس نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جانا ہے۔ تاہم آپ کے اندر کچھ ایسا ہے کہ جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے۔


کیا چیز ہے جو کہ غَیر مُتغَیَّر ہے؟ شاید آپ کے اندر کا صحیح انسان۔ آپ صرف تبدیلی کے گواہ ہیں، محسوس کریں اور اسے سمجھیں ۔


اپنی زندگی کی منفی تبدیلیوں کو محسوس کریں اور اپنی ذات سے اس پر قابو پانے کی کوشش کریں -






رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے اور رہنے والے ہمارے اعمال


سوچیں اور عمل کریں