Showing posts with label دل. Show all posts
Showing posts with label دل. Show all posts

Friday, August 31, 2012

نیند دل اور وقت


بچپن میں نیند آتی ہے
وقت بھی ہوتا ہے
مگر سونے کو دل نہیں چاہتا

جوانی میں نیند آتی ہے
سونے کو دل بھی چاہتا ہے
مگر وقت نہیں ہوتا

بڑھاپے میں سونے کو دل چاہتا ہے
وقت بھی ہوتا ہے
مگر نیند نہیں‌آتی

Tuesday, January 24, 2012

بازی بازی

بازی گر
مرد ہر بازی دماغ سے کھیلتا ھے کبھی کبھار کوئی ایک بازی ایسی ھوتی ھے جسے وہ دل سے کھیلتا ھے ۔ اورجس بازی کو وہ دل سے کھیلتا ھے اس میں مات کبھی نہیں کھاتا کیونکہ وہ بازی انا کی بازی ھوتی ھے ۔
عورت ہر بازی دل سے کھیلتی ھے مگر کبھی کبھار کوئی ایک بازی ایسی ھوتی ھے جسے وہ دماغ سے کھیلتی ھے اور اس وقت کم ازکم اس بازی میں کوئی اس کے سامنے کھڑا رہ سکتا ھے نہ اسے چت کر سکتا ھے اور وہ بازی بقا کی بازی ھوتی ھے ۔