Sunday, May 29, 2011

جواب شکوہ



دل سے جو بات نکلتي ہے اثر رکھتي ہے
پر نہيں' طاقت پرواز مگر رکھتي ہے
قدسي الاصل ہے' رفعت پہ نظر رکھتي ہے
خاک سے اٹھتي ہے ، گردوں پہ گزر رکھتي ہے
عشق تھا فتنہ گرو سرکش و چالاک مرا
آسماں چير گيا نالہ بے باک مرا
پير گردوں نے کہا سن کے' کہيں ہے کوئي
بولے سيارے' سر عرش بريں ہے کوئي
چاند کہتا تھا' نہيں! اہل زميں ہے کوئي
کہکشاں کہتي تھي' پوشيدہ يہيں ہے کوئي
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا
تھي فرشتوں کو بھي حيرت کہ يہ آواز ہے کيا
عرش والوں پہ بھي کھلتا نہيں يہ راز ہے کيا!
تا سر عرش بھي انساں کي تگ و تاز ہے کيا!
آگئي خاک کي چٹکي کو بھي پرواز ہے کيا!
غافل آداب سے سکان زميں کيسے ہيں
شوخ و گستاخ يہ پستي کے مکيں کيسے ہيں!
اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھي برہم ہے
تھا جو مسجود ملائک' يہ وہي آدم ہے!
عالم کيف ہے' دانائے رموز کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سليقہ نہيں نادانوں کو
آئي آواز' غم انگيز ہے افسانہ ترا
اشک بے تاب سے لبريز ہے پيمانہ ترا
آسماں گير ہوا نعرئہ مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دل ديوانہ ترا
شکر شکوے کو کيا حسن ادا سے تو نے
ہم سخن کر ديا نبدوں کو خدا سے تو نے
ہم تو مائل بہ کرم ہيں' کوئي سائل ہي نہيں
راہ دکھلائيں کسے' رہر و منزل ہي نہيں
تربيت عام تو ہے' جوہر قابل ہي نہيں
جس سے تعمير ہو آدم کي' يہ وہ گل ہي نہيں
کوئي قابل ہو تو ہم شان کئي ديتے ہيں
ڈھونڈنے والوں کو دنيا بھي نئي ديتے ہيں
ہاتھ بے زور ہيں' الحاد سے دل خوگر ہيں
امتي باعث رسوائي پيغمبر ہيں
بت شکن اٹھ گئے' باقي جو رہے بت گر ہيں
تھا براہيم پدر اور پسر آزر ہيں
بادہ آشام نئے ، بادہ نيا' خم بھي نئے
حرم کعبہ نيا' بت بھي نئے' تم بھي نئے
وہ بھي دن تھے کہ يہي مايہ رعنائي تھا
نازش موسم گل لالہ صحرائي تھا
جو مسلمان تھا' اللہ کا سودائي تھا
کبھي محبوب تمھارا يہي ہرجائي تھا
کسي يکجائي سے اب عہد غلامي کر لو
ملت احمد مرسل کو مقامي کو لو!
کس قدر تم پہ گراں صبح کي بيداري ہے
ہم سے کب پيار ہے! ہاں نيند تمھيں پياري ہے
طبع آزاد پہ قيد رمضاں بھاري ہے
تمھي کہہ دو يہي آئين و فاداري ہے؟
قوم مذہب سے ہے' مذہب جو نہيں' تم بھي نہيں
جذب باہم جو نہيں' محفل انجم بھي نہيں
جن کو آتا نہيں دنيا ميں کوئي فن' تم ہو
نہيں جس قوم کو پروائے نشيمن، تم ہو
بجلياں جس ميں ہوں آسودہ' وہ خرمن تم ہو
بيچ کھاتے ہيں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کي تجارت کرکے
کيا نہ بيچو گے جو مل جائيں صنم پتھر کے
صفحہ دہرئے سے باطل کو مٹايا کس نے؟
نوع انساں کو غلامي سے چھڑايا کس نے؟
ميرے کعبے کو جبينوں سے بسايا کس نے؟
ميرے قرآن کو سينوں سے لگايا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تھارے ہي' مگر تم کيا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!
کيا کہا ! بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور
شکوہ بے جا بھي کرے کوئي تو لازم ہے شعور
عدل ہے فاطر ہستي کا ازل سے دستور
مسلم آئيں ہوا کافر تو ملے حور و قصور
تم ميں حوروں کا کوئي چاہنے والا ہي نہيں
جلوئہ طور تو موجود ہے' موسي ہي نہيں
منفعت ايک ہے اس قوم کي' نقصان بھي ايک
ايک ہي سب کا نبي' دين بھي' ايمان بھي ايک
حرم پاک بھي' اللہ بھي' قرآن بھي ايک
کچھ بڑي بات تھي ہوتے جو مسلمان بھي ايک
فرقہ بندي ہے کہيں اور کہيں ذاتيں ہيں
کيا زمانے ميں پنپنے کي يہي باتيں ہيں
کون ہے تارک آئين رسول مختار؟
مصلحت وقت کي ہے کس کے عمل کا معيار؟
کس کي آنکھوں ميں سمايا ہے شعار اغيار؟
ہوگئي کس کي نگہ طرز سلف سے بيزار؟
قلب ميں سوز نہيں' روح ميں احساس نہيں
کچھ بھي پيغام محمد کا تمھيں پاس نہيں
جاکے ہوتے ہيں مساجد ميں صف آرا' تو غريب
زحمت روزہ جو کرتے ہيں گوارا ، تو غريب
نام ليتا ہے اگر کوئي ہمارا' تو غريب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئي تمھارا' تو غريب
امرا نشہ دولت ميں ہيں غافل ہم سے
زندہ ہے ملت بيضا غربا کے دم سے
واعظ قوم کي وہ پختہ خيالي نہ رہي
برق طبعي نہ رہي، شعلہ مقالي نہ رہي
رہ گئي رسم اذاں روح بلالي نہ رہي
فلسفہ رہ گيا ، تلقين غزالي نہ رہي
مسجديں مرثيہ خواں ہيں کہ نمازي نہ رہے
يعني وہ صاحب اوصاف حجازي نہ رہے
شور ہے، ہو گئے دنيا سے مسلماں نابود
ہم يہ کہتے ہيں کہ تھے بھي کہيں مسلم موجود!
وضع ميں تم ہو نصاري تو تمدن ميں ہنود
يہ مسلماں ہيں! جنھيں ديکھ کے شرمائيں يہود
يوں تو سيد بھي ہو، مرزا بھي ہو، افغان بھي ہو
تم سبھي کچھ ہو ، بتائو تو مسلمان بھي ہو!
دم تقرير تھي مسلم کي صداقت بے باک
عدل اس کا تھا قوي، لوث مراعات سے پاک
شجر فطرت مسلم تھا حيا سے نم ناک
تھا شجاعت ميں وہ اک ہستي فوق الادراک
خود گدازي نم کيفيت صہبايش بود
خالي از خويش شدن صورت مينايش بود
ہر مسلماں رگ باطل کے ليے نشتر تھا
اس کے آئينہء ہستي ميں عمل جوہر تھا
جو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھا
ہے تمھيں موت کا ڈر، اس کو خدا کا ڈر تھا
باپ کا علم نہ بيٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابل ميراث پدر کيونکر ہو!
ہر کوئي مست مے ذوق تن آساني ہے
تم مسلماں ہو! يہ انداز مسلماني ہے!
حيدري فقر ہے نے دولت عثماني ہے
تم کو اسلاف سے کيا نسبت روحاني ہے؟
وہ زمانے ميں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
تم ہو آپس ميں غضب ناک، وہ آپس ميں رحيم
تم خطاکار و خطابيں، وہ خطا پوش و کريم
چاہتے سب ہيں کہ ہوں اوج ثريا پہ مقيم
پہلے ويسا کوئي پيدا تو کرے قلب سليم
تخت فغفور بھي ان کا تھا، سرير کے بھي
يونہي باتيں ہيں کہ تم ميں وہ حميت ہے بھي؟
خودکشي شيوہ تمھارا، وہ غيور و خود دار
تم اخوت سے گريزاں، وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا، وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلي کو، وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک ياد ہے قوموں کو حکايت ان کي
نقش ہے صفحہ ہستي پہ صداقت ان کي
مثل انجم افق قوم پہ روشن بھي ہوئے
بت ہندي کي محبت ميں برہمن بھي ہوئے
شوق پرواز ميں مہجور نشيمن بھي ہوئے
بے عمل تھے ہي جواں ، دين سے بدظن بھي ہوئے
ان کو تہذيب نے ہر بند سے آزاد کيا
لا کے کعبے سے صنم خانے ميں آباد کيا
قيس زحمت کش تنہائي صحرا نہ رہے
شہر کي کھائے ہوا ، باديہ پيما نہ رہے
وہ تو ديوانہ ہے، بستي ميں رہے يا نہ رہے
يہ ضروري ہے حجاب رخ ليلا نہ رہے!
گلہ جور نہ ہو ، شکوئہ بيداد نہ ہو
عشق آزاد ہے ، کيوں حسن بھي آزاد نہ ہو!
عہد نو برق ہے ، آتش زن ہر خرمن ہے
ايمن اس سے کوئي صحرا نہ کوئي گلشن ہے
اس نئي آگ کا اقوام کہن ايندھن ہے
ملت ختم رسل شعلہ بہ پيراہن ہے
آج بھي ہو جو براہيم کا ايماں پيدا
آگ کر سکتي ہے انداز گلستاں پيدا
ديکھ کر رنگ چمن ہو نہ پريشاں مالي
کوکب غنچہ سے شاخيں ہيں چمکنے والي
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالي
گل بر انداز ہے خون شہدا کي لالي
رنگ گردوں کا ذرا ديکھ تو عنابي ہے
يہ نکلتے ہوئے سورج کي افق تابي ہے
امتيں گلشن ہستي ميں ثمر چيدہ بھي ہيں
اور محروم ثمر بھي ہيں، خزاں ديدہ بھي ہيں
سينکڑوں نخل ہيں، کاہيدہ بھي، باليدہ بھي ہيں
سينکڑوں بطن چمن ميں ابھي پوشيدہ بھي ہيں
نخل اسلام نمونہ ہے برومندي کا
پھل ہے يہ سينکڑوں صديوں کي چمن بندي کا
پاک ہے گرد وطن سے سر داماں تيرا
تو وہ يوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تيرا
قافلہ ہو نہ سکے گا کبھي ويراں تيرا
غير يک بانگ درا کچھ نہيں ساماں تيرا
نخل شمع استي و درشعلہ دود ريشہ تو
عاقبت سوز بود سايہ انديشہ تو
تو نہ مٹ جائے گا ايران کے مٹ جانے سے
نشہ مے کو تعلق نہيں پيمانے سے
ہے عياں يورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
کشتي حق کا زمانے ميں سہارا تو ہے
عصر نو رات ہے، دھندلا سا ستارا تو ہے
ہے جو ہنگامہ بپا يورش بلغاري کا
غافلوں کے ليے پيغام ہے بيداري کا
تو سمجھتا ہے يہ ساماں ہے دل آزاري کا
امتحاں ہے ترے ايثار کا، خود داري کا
کيوں ہراساں ہے صہيل فرس اعدا سے
نور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سے
چشم اقوام سے مخفي ہے حقيقت تيري
ہے ابھي محفل ہستي کو ضرورت تيري
زندہ رکھتي ہے زمانے کو حرارت تيري
کوکب قسمت امکاں ہے خلافت تيري
وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھي باقي ہے
نور توحيد کا اتمام ابھي باقي ہے
مثل بو قيد ہے غنچے ميں، پريشاں ہوجا
رخت بردوش ہوائے چمنستاں ہوجا
ہے تنک مايہ تو ذرے سے بياباں ہوجا
نغمہ موج سے ہنگامہء طوفاں ہوجا!
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر ميں اسم محمد سے اجالا کر دے
ہو نہ يہ پھول تو بلبل کا ترنم بھي نہ ہو
چمن دہر ميں کليوں کا تبسم بھي نہ ہو
يہ نہ ساقي ہو تو پھرمے بھي نہ ہو، خم بھي نہ ہو
بزم توحيد بھي دنيا ميں نہ ہو، تم بھي نہ ہو
خيمہ افلاک کا استادہ اسي نام سے ہے
نبض ہستي تپش آمادہ اسي نام سے ہے
دشت ميں، دامن کہسار ميں، ميدان ميں ہے
بحر ميں، موج کي آغوش ميں، طوفان ميں ہے
چين کے شہر، مراقش کے بيابان ميں ہے
اور پوشيدہ مسلمان کے ايمان ميں ہے
چشم اقوام يہ نظارہ ابد تک ديکھے
رفعت شان 'رفعنالک ذکرک' ديکھے
مردم چشم زميں يعني وہ کالي دنيا
وہ تمھارے شہدا پالنے والي دنيا
گرمي مہر کي پروردہ ہلالي دنيا
عشق والے جسے کہتے ہيں بلالي دنيا
تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کي طرح
غوطہ زن نور ميں ہے آنکھ کے تارے کي طرح
عقل ہے تيري سپر، عشق ہے شمشير تري
مرے درويش! خلافت ہے جہاں گير تري
ماسوي اللہ کے ليے آگ ہے تکبير تري
تو مسلماں ہو تو تقدير ہے تدبير تري
کي محمد سے وفا تو نے تو ہم تيرے ہيں
يہ جہاں چيز ہے کيا، لوح و قلم تيرے ہيں


Wednesday, May 25, 2011

THE HUMAN BEING

In world in plenty is wisdom and sight,
None can be hidden as the world has light.

So thin are nature veils if one gets eye,
So vivid are angels smiling on sky.

This world gives a call to man for His sight,
Each hid, given taste, to come to limelight.

This is Adam’s son, from his tears of blood,
The God gave to rivers a taste for flood.

Who lives on this earth what does the sky know,
For whom a night watch? For whom the stars glow?

What lies beyond me? If I’m the whole aim!
What is the new pale of my uproars game.











Beware! the wisdom’s shallow show,
Beware! the vision’s heavy flow.


He would tolerate yet the alien glance,
Beware! thus from his un-Muslim sense.

 










جہاں ميں دانش و بينش کي ہے کس درجہ ارزاني
کوئي شے چھپ نہيں سکتي کہ يہ عالم ہے نوراني

کوئي ديکھے تو ہے باريک فطرت کا حجاب اتنا
نماياں ہيں فرشتوں کے تبسم ہائے پنہاني

يہ دنيا دعوت ديدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گيا ہے ذوق عرياني

يہي فرزند آدم ہے کہ جس کے اشک خونيں سے
کيا ہے حضرت يزداں نے درياؤں کو طوفاني

فلک کو کيا خبر يہ خاکداں کس کا نشيمن ہے
غرض انجم سے ہے کس کے شبستاں کي نگہباني

اگر مقصود کل ميں ہوں تو مجھ سے ماورا کيا ہے
مرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کي انتہا کيا ہے؟


Thursday, May 12, 2011

چاند اور تارے


ڈرتے ڈرتے دم سحر سے
تارے کہنے لگے قمر سے

نظارے رہے وہي فلک پر
ہم تھک بھي گئے چمک چمک کر

کام اپنا ہے صبح و شام چلنا
چلنا چلنا ، مدام چلنا

بے تاب ہے اس جہاں کي ہر شے
کہتے ہيں جسے سکوں، نہيں ہے

رہتے ہيں ستم کش سفر سب
تارے، انساں، شجر، حجر سب

ہوگا کبھي ختم يہ سفر کيا
منزل کبھي آئے گي نظر کيا

کہنے لگا چاند ، ہم نشينو
اے مزرع شب کے خوشہ چينو!

جنبش سے ہے زندگي جہاں کي
يہ رسم قديم ہے يہاں کي

ہے دوڑتا اشہب زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازيانہ

اس رہ ميں مقام بے محل ہے
پوشيدہ قرار ميں اجل ہے

چلنے والے نکل گئے ہيں
جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہيں

انجام ہے اس خرام کا حسن
آغاز ہے عشق، انتہا حسن

Thursday, April 28, 2011

اونٹ رے اونٹ


اٹکی ہوئی سوئی

ایک طالبعلم مضمون نویسی جیسے عام مضموں میں فیل ہوا تو سکول کے مہتمم نے اُستاد کو اپنے دفتر میں بلا کر اس طالبعلم کے اس قدر عام اور آسان مضمون میں فیل ہونے کا سبب دریافت کیا۔
اُستاد نے بتایا کہ جناب یہ لڑکا مضمون نویسی میں اصل موضوع سے توجہ ہٹا کر اپنے ذاتی افکار کی طرف لے کر چلا جاتا ہے، اِس لیئے مجبوراً سے فیل کرنا پڑا۔
مہتمم صاحب نے اُستاد سے کہا ٹھیک ہے کوئی مثال تو دو تاکہ مُجھے پتہ چلے کہ تمہاری بات صحیح ہے؟
اُستاد نے بتایا، میں نے اِسے موسم بہار پر مضمون لکھنے کو دیا تو اِس نے کُچھ اِس طرح لکھا: موسم بہار سال کا خوبصورت ترین موسم ہے۔ کھیت کھلیان سر سبز اور ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔ ان کھیت کھیلانوں کے ہرا بھرا ہونے سے اونٹوں کیلئے چارے کی فراہمی بہت ہی آسان ہوجاتی ہے۔ اونٹ خشکی کا جانور ہے اور بھوک و پیاس کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیتا ہے۔ اسکے پیروں کی بناوٹ ریت پر چلنے کیلئے بہت اچھی ہوتی ہے، اسی لئے تو اسے صحراء کا سفینہ بھی کہتے ہیں۔ بدو اونٹوں کو نہایت پیار اور مُحبت سے پالتے ہیں۔ اونٹ نا صرف دودھ اور گوشت کے حصول کیلئے پالا جاتا ہے بلکہ اس سے ہر قسم کی بار برداری اور آمدورفت کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے سواری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ اونٹ ایک پالتو جانور ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس طرح اس طالبعلم نے اصل مضمون اور اسکے عنوان کو بھلا اپنی ساری توانائی اونٹ کی غزل سرائی پر خرچ کی۔
مہتمم صاحب نے اُستاد سے کہا، نہیں میں ایسا نہیں سمجھتا، اصل میں تُم نے عنوان ہی ایسا دیا تھا جس میں موسم بہار کی سرسبزی اور شادابی کا تعلق زراعت اور حیوانات کے پالنے وغیرہ سے بنتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ طالبعلم اس مشابہت کی وجہ سے اصل موضوع کو بھول کر کسی اور سمت میں چلا گیا۔
اُستاد نے کہا، میں ایسا نہیں سمجھتا، ایک بار میں نے اِسے جاپان کی مصنوعات اور ٹیکنالوجی پر مضمون لکھنے کو دیا تو اِس نے کُچھ اس طرح لکھا کہ؛ جاپان ایک ترقی یافتہ مُلک ہے جو اپنی مصنوعات اور خاص طور پر اپنی کاروں کی مصنوعات اور برآمدات کیلئے پوری دُنیا میں مشہور ہے۔ کاریٰں پوری دُنیا میں انسانوں کے سفر کے وسائل کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں مگر بدو اپنی آمدورفت کے وسائل کیلئے اونٹ پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اونٹ خشکی کا جانور ہے اور بھوک و پیاس کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیتا ہے۔ اسکے پیروں کی بناوٹ ریت پر چلنے کیلئے بہت اچھی ہوتی ہے، اسی لئے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہتمم صاحب نے اُستاد سے پوچھا، کیا تمہارے پاس ان دو مثالوں کے علاوہ بھی کوئی اور مثال ہے؟
اُستاد نے جواب دیا، جی ہاں جناب، اِسے آپ کوئی سا بھی عنوان مضمون لکھنے کیلئے دیدیں، یہ ایک سطر اُس موضوع پر لکھ باقی کا مضمون اونٹ کی مدح سرائی پر لکھ کر پورا کرتا ہے۔ ایک بار میں نے اسے ایک ایسا عنوان دیا جس سے اسکا ذہن اونٹ کی طرف جا ہی نہ سکے مگر اس نے تو کمال ہی کر دکھایا۔ میں نے اسے دور حاضر کی بہترین ایجاد کمپیوٹر پر مضمون لکھنے کو دیا تو اِس نے کُچھ یوں لکھا کہ؛ کمپیوٹر دورِحاضر کی مفید ترین ایجاد ہے، شہروں میں تو اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہوتا جا رہا ہے مگر بدوؤں کے پاس کمپیوٹر کہاں سے آئے۔ اُن کے پاس تو اونٹ ہوتے ہیں۔ اونٹ خشکی کا جانور ہے اور بھوک و پیاس کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیتا ہے۔ اسکے پیروں کی بناوٹ ریت پر چلنے کیلئے بہت اچھی ہوتی ہے، اسی لئے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہتمم صاحب نے مدرس سے کہا، تم اس طالبعلم کو فیل کرنے میں حق بجانب ہو۔ ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو۔
طالبعلم کو اپنے فیل ہونے پر بہت غصہ آیا، اُس نے وزیرِ تعلیم کو ایک خط لکھ ڈالا۔
جناب وزیرِ تعلیم صاحب، السلام ُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
میں آپ جناب کے علم میں اپنے اوپر ہونے والے ایک ظُلم کی روئیداد لانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی جماعت کے ذہین طلباء میں شمار ہوتا ہوں مگر اس کے باوجود بھی مُجھے فیل کر دیا گیا ہے۔ جس پر میرا صبر اونٹ کے صبر جیسا ہے۔ کیونکہ اونٹ خشکی کا جانور ہے اور بھوک و پیاس کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیتا ہے۔ اسکے پیروں کی بناوٹ ریت پر چلنے کیلئے بہت اچھی ہوتی ہے، اسی لئے تو اسے صحراء کا سفینہ بھی کہتے ہیں۔ بدو اونٹوں کو نہایت پیار اور مُحبت سے پالتے ہیں۔ اونٹ نا صرف دودھ اور گوشت کے حصول کیلئے پالا جاتا ہے بلکہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں آپ جناب کے علم میں مزید یہ بات بھی لانا چاہتا ہوں کہ اونٹ کی کوہان میں وافر مقدار میں پائی جانے والی چربی اونٹ کیلئے کئی دنوں کیلئے طاقت اور تونائی کی فراہمی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اونٹ کی آنکھوں کی مخصوص بناوٹ اسے صحرائی ریت کے بگولوں اور اندھیوں میں حفاظت کا باعث بنتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔میری آپ جناب سے التجاء ہے کہ مُجھ پر ہونے والے اس ظلم کا سدِباب کریں بالکل اسی طرح جس طرح آجکل کے دور میں اونٹ کی کلیجی کے سندوئچ کھانے کا فیشن بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس عادت کے سدِباب کی اشد ضرورت ہے۔
    محمد سلیم (شانتو/چائنا) thanks to 

Tuesday, March 15, 2011

اسلام کی قیمت - فقط بیس پنس

سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔ لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔ امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں بنتے۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو، اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!! ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ اور میں ان پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔ بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔ ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر تمہیں زیادہ دیئے تھے تاکہ تمہارا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ پرکھ سکوں۔ اور امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترا، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی، یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔
اور اسکے بعد۔۔ ہو سکتا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہ کرتے ہوں۔ مگر یاد رکھیئے کہ بعض اوقات لوگ صرف قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔ یا غیر مسلم ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہوں۔ اس طرح تو ہم سب کو دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال ہونا چاہیئے۔۔ اور ہمیشہ اپنے معاملات میں سچے اور کھرے بھی۔۔ صرف اتنا ہی ذہن میں رکھ کر، کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟ اور ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔ یا پھر اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!

Muhammad Saleem from Shantou

Sunday, January 2, 2011

نہ ھونا عین ھونا ہے - یوں ہوتا، تو کیا ہوتا


نہ ھونا عین ھونا ہے

بعض واقعات انسانی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں
ہم انھیں چاہتے ہوے بھی نہیں بھلا سکتے


ان کا مقصد صرف بندے کو تجربات اور مشاہدات سے گزارنا ہی نہیں بلکہ تربیت بھی مقصود ہوتا ہے
ہم یہ سوچ سوچ کر پریشان ہو جاتے ہیں لیکن کسی نتیجے پر نہیں پوہنچ پاتے اور ساری زندگی ان واقعات کے اثر میں گزار دیتے ہیں

ہم آج بھی اپنے ماضی پر نگاہ ڈالیں تو بہت سارے تجربات، مشاہدات، اور واقعات بظاھر بےمقصد محسوس ہوتے ہیں، مگر ان میں ایک تسلسل ہے جس کا ادراک آھستہ آھستہ انسان کو سیدھے راستے کی طرف لےجانےکی صورت میں ہوتا ہے


گرچہ تو زنداني اسباب ہے
قلب کو ليکن ذرا آزاد رکھ

عقل کو تنقيد سے فرصت نہيں
عشق پر اعمال کي بنياد رکھ

اے مسلماں! ہر گھڑي پيش نظر
آيہ 'لا يخلف الميعاد' رکھ

يہ 'لسان العصر' کا پيغام ہے
''ان وعد اللہ حق'' ياد رکھ''


Though you are bound by cause and effect
Keep your heart a little independent

یوں ہوتا، تو کیا ہوتا

آج ماما کہ رہیں تھیں تم اس نہیں کھیل سکو گی
لیکن وہ تو میری بیسٹ کزن اور فرینڈ ہے
اللہ میاں مجھے تو ڈر لگ رہا ہے
ماما میں نے اس سے کھیلنا تھا
ماما میں نے اس سے کھیلنا تھا

...

صبح سے ماما اٹھی ہوئی ہیں ، بابا بھی نہیں سوے
پتہ نہیں کیوں مجھے بھی نیند نہیں آ رہی
ماما کی گود میں بھی نہیں سو سکی
نجانے کیوں میں خوف زدہ کیوں ہوں
آپا اور بھیا بھی نہیں کھیل رہے

...

وہ جب بھی ہمارے گھر آتی تھی ہم گھنٹوں اس سے کھلتے تھے
حلانکہ وہ اکثر لیٹی رہتی یا سوئی رہتی تھی
وہ بہت چھوٹی تھی مجھ سے بھی چوٹی تھی
میری بیسٹ فرینڈ صرف ١٠ ماہ کی تھی

...

ہم ان کے جانے کے بعد بھی اس سے کھیلتے رہتے تھے
وہ تو میری آپا کی بھی فرینڈ تھی اور بھیا کی بھی
ہم ٹویز سے کھیلیں یا بکس پڑھیں ، ہم اسکو بھی ساتھ کھلاتے تھے

...

میں اس سے نہی کھیل سکتی
لیکن میں اس سے کیوں نہیں کھیل سکتی
اللہ، مجھے تو ڈر لگ رہا ہے
ماما میں نے اس سے کھیلنا تھا
ماما میں نے اس سے کھیلنا تھا

...

ہم کراچی جا رہے ہیں
ماما ٹرین ہمارے گھر کیسے آے گی ؟
بھیا کہ رہے ہیں ہم جہاز پر جایئں گے
ماما جہاز ہمارے گھر کیسے آے گا؟
ہم گاڑی میں نہیں جائیں گے؟
میں بہت خوش ہوں ، ہم جہاز میں کراچی جا رہے ہیں
کیا میں وہاں اس سے کھیل سکون گی ؟

...

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہُوا جب غم سے یوں بے حِس، تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے، تو زانو پر دھرا ہوتا

ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا، تو کیا ہوتا


یوں ہوتا، تو کیا ہوتا - ٢

نہیں بیٹا ! جب اللہ کسی کو اپنے پاس بلاتا ہے تو وہ واپس نہیں آتا
ہم اس سے کھیل نہیں سکتے ، مل نہیں سکتے ، باتیں نہیں کرسکتے
وہ ہمیشہ اللہ کے پاس ہی رہتا ہے ، وہ واپس نہیں آسکتا
ہم سب نے وہاں اللہ کے پاس چلے جانا ہے

...

اگر

اگر سردی نہ ہوتی

اگر ٹھنڈ نہ لگتی

اگر بخار نہ ہوتا

اگر الٹی نہ آتی

اگر وہ بچی کو نہ اٹھاتی

اگر پاوں الٹی پر نہ آتا

اگر وہ نہ پھسلتی

اگر وہ نہ گرتی

اگر وہ آہستہ گرتی

اگر سر نیچے نہ لگتا

اگر سر پر چوٹ نہ لگتی

اگر ہسپتال قریب ہوتا

اگر وہاں سی-ٹی سکین ہوتا

اگر سی-ٹی سکین ٹھیک آتا

اگر ہیر لائن نہ آتا

اگر بلڈ کلوٹ نہ بنتا

اگر وہ وقت نہ آتا

اگر وہ بول سکتی

اگر وہ کہ سکتی

اگر وہ بتا سکتی کہ وہ کتنی تکلیف میں تھی

اگر ... اگر

اگر وہ کچھ دن اور رہ جاتی



کسی کو کوئی ملال نہ رہتا
کسی کو کوئی پشیمانی نہ رہتی
کسی کو کوئی گلہ شکوہ نہ رہتا
اور تم بھی اس سے کھیل سکتی


...

اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اوررلاتا ہے

اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور زندہ کرتا ہے

اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کا پیدا کیا ہے

ایک بوند سے جب کہ وہ ٹپکائی جائے

اور یہ کہ دوسری بارزندہ کر کے اٹھانا اسی کے ذمہ ہے

...



Wednesday, October 20, 2010

والدین

اعلٰی تعلیم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے ایک نوجوان نے ملک کی ایک بڑی نامور کمپنی میں ادارتی منصب کیلئے درخواست جمع کرائی اور اُسے ابتدائی طور پر اِس منصب کیلئے موزوں اُمیدوار قرار دیکر فائنل انٹرویو کیلیئے تاریخ دیدی گئی۔
انٹرویو والے دن کمپنی کے مُدیر (کمپنی کا سربراہ) نے نوجوان کی پروفائل کو غور سے دیکھا اور پڑھا، نوجوان اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر آخری مرحلے تک نا صرف کامیاب ہوتا رہا تھا بلکہ اپنے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتا رہا تھا۔ اُسکی تعلیم کا یہ معیار آخر تک برقرار رہا تھا۔ مُدیر نے جوان سے پوچھا: تعلیم کے معاملے میں تمہیں کبھی کوئی مشکل یا کوئی ناکامی بھی پیش آئی، جسکا جواب نوجوان نے کبھی نہیں کہہ کر دیا۔

مُدیر نے پوچھا: یقینا یہ تمہارے والد ہونگے جنہوں نے تمہاری اِس مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت کیئے ہونگے؟
نوجوان نے کہا نہیں، میرے والد کا تو اُس وقت ہی انتقال ہو گیا تھا جب میں ابھی اپنی پہلی جماعت میں تھا۔ میرے تعلیم کے سارے اخراجات میری امی نے اُٹھائے ہیں۔

مُدیر نے پھر کہا؛ اچھا، تو پھر تمہاری امی کیا جاب کرتی ہیں ؟
نوجوان نے بتایا کہ میری امی لوگوں کے کپڑے دھوتی ہیں۔
مُدیر نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اپنے ہاتھ تو دِکھاؤ۔ نوجوان نے ہاتھ اُسے تھمائے جو کہ اِنتہائی نرم و نازک اور نفیس تھے، ہاتھوں کی نزاکت سے تو شائبہ تک نہیں ہوتا تھا کہ نوجوان نے تعلیم کے علاوہ کبھی کوئی اور کام بھی کیا ہوگا۔
مُدیر نے نوجوان سے پوچھا: کیا تم نے کپڑے دھونے میں کبھی اپنی امی کے ہاتھ بٹائے ہیں؟

نوجوان نے انکار میں جواب دیتے ہوئے کہا: نہیں، کبھی نہیں، میری امی ہمیشہ مجھے اپنا سبق یاد کرنے کو کہا کرتی تھیں، اُنکا کہنا تھا کہ کپڑے وہ خود دھو لیں گی۔ میں زیادہ سے زیادہ کُتب کا مطالعہ کرتا تھا، اور پھر میری امی جتنی تیزی اور پُھرتی سے کپڑے دھوتی تھیں میں تو اُتنی تیزی سے دھو بھی نہیں سکتا تھا۔
مُدیر نے نوجوان سے کہا؛ برخوردار، میری ایک شرط ہے کہ تم آج گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوؤ اور کل دوبارہ میرے پاس واپس آؤ تو میں طے کرونگا کہ تمہیں کام پر رکھا جائے کہ نہیں۔

نوجوان کو یہ شرط کُچھ عجیب تو ضرور لگی مگر کام ملنے کے اطمئنان اور خوشی نے اُسے جلد سے جلد گھر جانے پر مجبور کردیا۔
گھر جا کر نوجوان نے اپنی ماں کو سارا قصہ کہہ سُنایا اور ساتھ ہی اُسے جلدی سے ہاتھ دھلوانے کو کہا۔ آخر نوکری کا ملنا اس شرط سے جُڑا ہوا تھا۔
نوجوان کی ماں نے خوشی تو محسوس کی، مگر ساتھ ہی اُسے یہ شرط عجیب بھی لگ رہی تھی۔ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے اور خیالات آ رہے تھے کہ آخر نوکری کیلئے یہ کِس قسم کی شرط تھی؟ مگر اِس سب کے باوجود اُس نے اپنے ہاتھ بیٹے کی طرف بڑھا دیئے۔

نوجوان نے آہستگی سے ماں کے ہاتھ دھونا شروع کیئے، کرخت ہاتھ صاف بتا رہے تھے کہ اِنہوں نے بہت مشقت کی تھی۔ نوجوان کی آنکھو سے آنسو رواں ہو گئے۔ آج پہلی بار اُسے اپنی ماں کے ہاتھوں سے اُس طویل محنت کا ندازہ ہو رہا تھا جو اُس نے اپنےاِس بیٹے کی تعلیم اور بہتر مُستقبل کیلئے کی تھی۔

ہاتھ انتہائی کُھردرے تو تھے ہی اور ساتھ ہی بہت سی گانٹھیں بھی پڑی ہوئی تھیں۔ آج نوجوان کو پہلی بار محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کھردرا پن اگر اُسکی تعلیم کی قیمت چُکاتے چُکاتے ہوا تھا تو گانٹھیں اُسکی ڈگریوں کی قیمت کے طور پر پڑی تھیں۔ نوجوان ہاتھ دھونے سے فراغت پا کر خاموش سے اُٹھا اور ماں کے رکھے ہوئے باقی کپڑے دھونے لگ گیا۔ وہ رات اُس نے ماں کے ساتھ باتیں کرتے گُزاری، تھوڑے سے کپڑے دھونے سے اُسکا جسم تھکن سے شل ہو گیا تھا۔ سارا سارا دن بغیر کوئی شکوہ زبان پر لائے کپڑے دھونے والی ماں سے باتیں کرنا آج اُسے بہت اچھا لگ رہا تھا، دِل تھا کہ کسی طرح بھی باتوں سے بھر نہیں پا رہا تھا۔

دوسرے دِن اُٹھ کر نوجوان دوبارہ اُس کمپنی کے دفتر گیا، مُدیر نے اُسے اپنے کمرے میں ہی بُلا لیا۔ نوجوان کے چہرے سے اگر جگ راتے کی جھلک نُمایاں تھی تو آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کسی ندامت اور افسردگی کی کہانی سُنا رہی تھی۔
مُدیر نے نوجوان سے پوچھا، کل گھر جا کر تُم نے کیا کیا تھا؟
نوجوان نے مختصرا کہا کہ کل میں نے گھر جا کر اپنی امی کے ہاتھ دھوئے تھے اور پھر اُس کے باقی بچے ہوئے کپڑے بھی دھوئے تھے۔
مُدیر نے کہا میں تمہارے محسوسات کو پوری سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سُننا چاہتا ہوں۔

نوجوان نے کہا: کل مُجھے لفظ قُربانی کے حقیقی معانی معلوم ہوئے۔ اگر میری امی اور اُسکی قُربانیاں ناں ہوتیں تو میں آج اِس تعلیمی مقام پر ہرگز فائز نہ ہوتا۔ دوسرا میں نے وہی کام کر کے اپنے اندر اُس سخت اور کٹھن محنت کی قدر و قیمت کا احساس پیدا کیا جو میری ماں کرتی رہی تھی اور مُجھے حقیقت میں اُسکی محنت اور مشقت کی قدر کا اندازہ ہوا۔ تیسرا مُجھے خاندان کی افادیت اور قدر کا علم ہوا۔
مُدیر نے نوجوان کو بتایا کہ وہ اپنی کمپنی میں موجود ادارتی منصب کیلئے ایک ایسے شخص کی تلاش تھا جو دوسروں کی مدد کا جذبہ رکھنے والا ہو، دوسرے کا اِحساس کرنے والا ہو اور صرف مال کا حصول ہی اُسکا مطمعِ نظر نہ ہو۔ نوجوان تمہیں مبارک ہو، میں تمہیں اِس منصب کیلئے منتخب کرتا ہوں۔
اور کہتے ہیں کہ نوجوان نے اُس کمپنی میں بہت محنت، لگن اور جذبے کے ساتھ کام کیا، دوسروں کی محنت کی قدر اور احساس کرتا تھا، سب کو ساتھ لیکر چلنا اور سارے کام مِل جُل کر ایک فریق کی حیثیت سے انجام دینا اُسکا وطیرہ تھا، اور پِھر اُس کمپنی نے بھی بہت ترقی کی۔

...

اِس کہانی سے اخذ کیئے گئے کُچھ نتائج ملاحظہ فرمائیے:
جِس بچے کو مُحبت اور شفقت کے علاوہ اُسکے منہ سے نکلنے والی ہر خواہش کی فوری تعمیل کے ماحول میں پرورش کی جائے وہ بچہ ہر چیز پر حقِ ملکیت محسوس کرتا ہے اور ہمیشہ اپنی خواہشات اور اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہے۔
ایسا بچہ اپنے باپ کی محنت اور مشقت سے بے خبر رہتا ہے، جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو ہر کسی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اُسکا ماتحت اور تابع فرمان ہو۔

ایسا بچہ عملی زندگی میں کسی ادارتی منصب یا ذمہ داری پر فائز ہو جائے تو اپنے ماتحتوں کا دُکھ درد اور تکلیفوں کو سمجھتا ہی نہیں اُلٹا کسی قسم کی ناکامی کی صورت میں اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتا ہے۔
دوسروں کو حقارت اور کمتر سمجھنا تو معمولی بات ہے ایسا بچہ اپنے مفادات اور کامیابیوں کیلئے دوسروں کو راستے سے ہٹانا معمولی بات سمجھتا ہے۔
دیکھ لیجیئے اگر ہم اپنی اولاد کی تربیت اِسی انداز سے کر رہے ہیں تو ہمارے کیا مقاصد ہیں؟ ہم اُنکی حفاظت کر رہے ہیں یا اُن کی بربادی کے اسباب پیدا کر رہے ہیں؟

ہو سکتا ہے آپکا بچہ ایک بڑے گھر میں رہتا ہو، انواع و اقسام کے اعلٰی کھانے کھاتا ہو، پیانو کی تعلیم حاصل کرتا ہو، کسی پروجیکٹر یا بڑی سکرین والے ٹیلیویژن پر اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھتا ہو، لیکن اگر کبھی وہ گھر کے لان کی گھاس کاٹنا چاہے تو اُسے اِس کام کا تجربہ تو کرنے دیجیئے۔

اگر وہ کھانا کھا چُکے تو اُسے بہنوں کے ساتھ یا ماں کے ساتھ باورچی خانے میں جا کر اپنی پلیٹ بھی دھونے دیجیئے۔

اِسکا یہ مطلب ہرگز نہیں بنے گا کہ آپکے پاس گھر میں خادمہ رکھنے کی حیثیت نہیں ہے، بلکہ اِسکا یہ مطلب بنے گا کہ آپ اپنے بچے سے صحیح اُصولوں کے مطابق محبت کرتے ہیں۔

کیونکہ آپ چاہتے ہیں کہ آپکے بچے کے اندر اِس بات کا شعور اور احساس پیدا ہو کہ اُس کے باپ نے اُس کیلئے جو دولت چھوڑ کر جانی ہے وہ آسانی سے نہیں کمائی گئی تھی جس طرح مذکورہ بالا کہانی میں نوجوان کی ماں کی محنت و مشقت والی کمائی کا ذکر ہے۔

اِن سب باتوں سے قطع نظر، آپ اپنے بچے کو ایثار اور قُربانی کا مفہوم سمجھانا چاہتے ہیں، آپ اُسے کام کی تکلیف اور مصائب و مشاکل سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
آپ اُسے بتانا چاہتے ہیں کہ دوسروں کی محنت و مشقت کی قدر اور احساس کیا جائے تاکہ نتائج سے سب مل کر لطف اُٹھا سکیں۔