Thursday, September 10, 2009

یہ وقت بھی گذر جائے گا

کسی بادشاہ نے اپنے ملک سے تمام پڑھے لکھے، عقلمند اور عالم قسم کے لوگوںکو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا مشورہ، منتر یا مقولہ ہے کہ کو ہر قسم کے حالات میں کام کرے، ہر صورتحال اور ہر وقت میں اس ایک سے کام چل جائے۔ کوئی ایسا مشورہ جو کہ میں اگر اکیلے میں ہوںاور میرے ساتھ کوئی مشورہ کرنے والا نہ ہو تب بھی مجھے اس کا فائدہ ہو؟


تمام لوگ بادشاہ کی اس خواہش کو سن کر پریشان ہوگئے کہ کون سی ایسی بات ہے جو کہ ہروقت، ہر جگہ کام آئے؟ جو کہ ہر صورتحال، خوشی، غم، الم، آسائش، جنگ و جدل، ہار، جیت غرضکہ ہر جگہ فٹ ہو سکے؟ِ


کافی دیر آپس میںبحث و مباحثہ کے بعد ایک بوڑھے آدمی نے ایک تجویز پیش کی جسے تمام نے پسند کیا اور وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔


انہوں نے بادشاہ کی خدمت میں ایک کاغذ پیش کیا اور کہا کہ اس میں وہ منتر موجود ہے جس کی خواہش آپ نے کی تھی۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ اس کو صرف اس وقت کھول کر دیکھیں گے جب آپ اکیلے ہوں اور آپ کو کسی کی مدد یا مشورہ درکار ہو۔ بادشاہ نے اس تجویز کومان کر کاغذ کو نہایت حفاظت سے اپنے پاس رکھ لیا۔


کچھ عرصے کے بعد پڑوسی دشمن ملک نے اچانک بادشاہ کے ملک پر حملہ کردیا۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بادشاہ اور اس کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی۔ فوج نے اپنے بادشاہ کے ساتھ ملکر اپنے ملک کے دفاع کی بہت کوشش کی لیکن بالآخر انہیں محاذ سے پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ دشمن ملک کے سپاہی بادشاہ کے پکڑنے اس کے پیچھے لگ گئے اور بادشاہ اپنی جان بچانے کے لیئے گھوڑے پر بھاگ نکلا۔ بھاگتے بھاگتے وہ پہاڑ کے اس مقام پر پہنچ گیا کہ جہاں دوسری طرف گہری کھائی تھی اور ایک طرف دشمن کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے تھے۔


اس صورتحال میں اسے اچانک اس منتر کا خیال آیا جو کہ اسے بوڑھے شخص نے دیا تھا۔ اس نے فورا اپنی جیب سے وہ کاغذ نکالا اور پڑھنا شروع کیا۔ اس کاغذ پر لکھا تھا کہ "یہ وقت بھی گذر جائے گا"


بادشاہ نے حیران ہوکر تین چار دفعہ اس تحریر کو پڑھا — اسے خیال آیا کہ یہ بات تو بالکل صحیح ہے۔ ابھی کل ہی وہ اپنی حکومت میں سکون کی زندگی گزار رہا تھا اور تمام عیش و آرام اسے میسر تھا اور آج وہ دشمن سے بچنے کیلیئے بھاگتا پھر رہا ہے؟ جب آرام اور عیش کے دن گذر گئے تو یقینا یہ وقت بھی گذر جائے گا۔ یہ سوچ کر اسے سکون آگیا اور وہ پہاڑ کے آس پاس کے قدرتی مناظر کو دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اسے گھوڑوںکے سموں کی آوازیں معدوم ہوتی سنائی دیں، شاید دشمن کے سپاہی کسی اور طرف نکل گئے تھے۔


بادشاہ ایک بہادر آدمی تھا۔ جنگ کے بعد اس نے اپنے لوگوں کا کھوج لگایا جو آس پاس کے علاقوں میں چھپے ہوئے تھے۔ اپنی بچی کھچی قوت کو مجتمع کرنے کے بعد اس نے دشمن پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی۔ جب وہ جنگ جیت کے اپنی مملکت میں واپس جارہا تھا تو اس کے ملک کے تمام لوگ استقبال کے لیئے جمع تھے۔ اپنے بہادر بادشاہ کے استقبال کے لیئے لوگ شہر کی فصیل، گھروں کی چھتوں غرض کہ ہر جگہ پھول لیئے کھڑے تھے اور تمام راستے اس پر پھول نچھاور کرتے رہے۔ہر گلی کونے میں لوگ خوشی سے رقص کررہے تھے اور بادشاہ کے شان میں قصیدے گا رہے تھے۔ بادشاہ بھی اپنے فوجی قافلے کے ہمراہ بڑی شان سے کھڑا لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ دیکھو لوگ ایک بہادر کا استقبال کیسے کرتے ہیں، میری عزت میں اب اور اضافہ ہوگیا ہے، اور کیوںنہ ہوتا، دشمنوں کو ماربھگانا کوئی اتنا آسان نہیں تھا اور خصوصا ایک مکمل شکست کے بعد۔


یہ سوچتے سوچتے اچانک اسے اس کاغذ کے مضمون کا خیال آگیا "یہ وقت بھی گذر جائے گا"۔ اس خیال کے ساتھ ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اپنے آپ پر غرور ایک ہی لمحہ میں ختم ہوگیا اور اس نے سوچا کہ اگر یہ وقت بھی گذر جائے گا تو یہ وقت میرا نہیں۔ یہ لمحے یہ حالات میرے نہیں، یہ ہار اور یہ جیت بھی میری نہیں۔ہم صرف دیکھنے والے ہیں، ہر چیز کو گذر جانا ہے اور ہم صرف ایک گواہ ہیں۔


ہم صرف محسوس کرتے ہیں۔ زندگی آتی ہے اور چلی جاتی ہے۔ خوشی اور غم کا بھی یہی حال ہے۔ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانچیں۔ اپنی زندگی میں خوشی، مسرتوں، جیت، ہار اور غم کے لمحات کو یاد کریں۔ کیا وہ وقت مستقل تھا؟ وقت چاہے کیسا بھی ہو، آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔


زندگی گذر جاتی ہے۔ ماضی کے دوست بھی بچھڑ جاتے ہیں۔ جو آج دوست ہیں وہ کل نہیں رہیںگے۔ ماضی کے دشمن بھی نہیں ہیں اور آج کے بھی ختم ہوجائیں گے۔ اس دنیا میں کچھ بھی کوئی بھی مستقل اور لازوال نہیں۔


ہر چیز تبدیل ہو جاتی ہے لیکن تبدیلی کا قانون نہیں بدلتا۔ اس بات کو اپنی زندگی کے تناظر میں سوچیں۔آپ نے کئی تبدیلیوں کو زندگی میںدیکھا ہو گا، کئی چیزوں کو تبدیل ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی میںکئی بار غم اور شکست کے حالات آئے ہوںگے اور اسی طرح آپ نے کئی پرمسرت لمحات بھی گذارے ہوںگے۔ دونوں قسم کے وقت کو گذر جانا ہے، کچھ بھی مستقل نہیں ۔ ہم اصل میںکیا ہیں پھر؟ اپنے اصل چہرے کو پہچانیئے ۔ ہمارا چہرہ اصل نہیں ہے۔ اس نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جانا ہے۔ تاہم آپ کے اندر کچھ ایسا ہے کہ جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا اور ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے۔


کیا چیز ہے جو کہ غَیر مُتغَیَّر ہے؟ شاید آپ کے اندر کا صحیح انسان۔ آپ صرف تبدیلی کے گواہ ہیں، محسوس کریں اور اسے سمجھیں ۔


اپنی زندگی کی منفی تبدیلیوں کو محسوس کریں اور اپنی ذات سے اس پر قابو پانے کی کوشش کریں -






رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے اور رہنے والے ہمارے اعمال


سوچیں اور عمل کریں

Wednesday, August 15, 2007

بیوقوف ترین بچہ

دخل طفل صغير لمحل الحلاقة
بچہ نائی کی دکان میں داخل ہوتا ہے
فهمس الحلاق للزبون
حجام گاہک سے سرگوشی کرتا ہے
هذا أغبى طفل في العالم...إنتظر وأنا أثبت لك
''یہ دنیا کا بیوقوف ترین بچہ ہے دیکھو میں یہ ثابت کیے دیتا ہوں. 
وضع الحلاق دولارا بيد و 25 قرشا باليد الاخرى
حجام نے ایک ہاتھ پر ایک روپے کا نوٹ رکھا اور دوسرے ہاتھ پر 25 پیسے کا سکہ
نادى الولد وعرض عليه المبلغين
بچے کو آواز دی اور دونوں ہاتھ آگے کر دیئے
أخذ الولد ال 25 قرشا ومشى
بچے نے 25 پیسے لیے اور چل دیا
قال الحلاق
حجام کہنے لگا
وفي كل مرة يكرر نفس الامر
یہ ہر دفعہ ایسے ہی کرتا ہے
وعندما خرج الزبون من المحل
گاہک باہر نکلتا ہے
قابل الولد خارجاً من محل الآيس كريم
آیس کریم کی دکان کے پاس اُسے وہی بچہ ملتا ہے
ساله
وہ اس سے پوچھتا ہے
لماذا تأخذ ال25 قرشا كل مرة ولا تأخذ الدولار ؟؟؟
تم ہر دفعہ25 پیسے کیوں اٹھاتے ہو ، روپیہ کیوں نہیں اُٹھاتے
قال الولد
بچہ کہتا ہے
لانه فى اليوم الذي آخذ فيه الدولار سوف تنتهي اللعبة
وہ اس لیے کہ جس دن میں نے ایک روپے کا نوٹ اُٹھا لیا
اُس دن کھیل ختم


الغبي هو الذي يعتبر نفسه ذكي
بیوقوف وہ ہے جواپنے آپ کو زیادہ عقلمند جانے
  

Thursday, November 7, 2002

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

لگتا نہیں ہے جی مِرا اُجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں



بُلبُل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں



اِن حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں



اِک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بُلبُل ہے شادماں

کانٹے بِچھا دیتے ہیں دلِ لالہ زار میں



عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دِن

دو آرزو میں کٹ گئے، دو اِنتظار میں



دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہوگئی

پھیلا کے پائوں سوئیں گے کنج مزار میں



کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے

 دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں




Monday, January 8, 2001

خوبصورت

حضرت جنید بغدادی رح کے پاس ایک عورت آئی ، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے ؟

حضرت جنید بغدادی رح نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے -

اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپنا حسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت -

اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے - وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی -

حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی تو الله تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ :

اے جنید ! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت الله ہو اسے کسی اور کی کیا ضرورت ہے

Sunday, August 1, 1999

بیوقوفوں سے عقل سیکھو



بچہ سائیں بابا سے، بابا ! آپ نے دانائی کیونکر سیکھی

سائیں  بابا، مجھے بیوقوفوں نے دانائی سکھا دی


بچہ، بیوقوفوں سے دانائی کیونکر سیکھی جا سکتی ہے؟

سائیں بابا، جیسا بیوقوف کریں ویسا نہ کرو


بچہ، بیوقوف کی پہچان کیا ہے؟

سائیں بابا، بیوقوف یہ سمجھتا ہے کہ وہ عقلمند ہے


Friday, August 15, 1997

صبر ، شکر

ایک درویش نے دوسرے سے پوچھا
"تم نے یہ مقام کیونکر حاصل کیا"

"جب نہیں ملتا تو صبر کرتا ہوں ، اور جب مل جاتا ہے تو شکر کرتا ہوں"

"اور تم اس مقام پر کیں کر پہنچے"
پہلے نے استفسار کیا

"جب ملتا ہے تو شکر کرتا ہوں، اور جب نہیں ملتا ہے تو بھی شکر کرتا ہوں"

Monday, December 25, 1972

سچ کی تلاش

علم الیقین ، عین الیقین ، حق الیقین

علم کا معنی ہے جاننا ۔ یقین کا معنی ہے کسی ایک نقطہ پر جم جانا مکمل یکسوئی کے ساتھ ۔ اس علم کی مثال یوں ہے کہ ایک گھڑا ہے ، دور پڑا ہے ۔ صرف علم ہے کہ اس میں پانی ہے ۔ اس کو آنکھوں سے پاس جا کر نہیں دیکھا ۔ فقط علم کی حد تک ہے ۔ اس میں کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے ۔ فقط جاننے کی حد تک معلوم ہونا ، یہ علم الیقین ہے کہ اس میں پانی ہے ۔

اور جب نزدیک جا کراس کو آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس میں پانی ہے تو یہ عین الیقین بن گیا۔لیکن مکمل بات اب بھی نہیں کہ دیگر مائعات پانی سے مماثلت رکھتی ہیں کہ وہ پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ مگر دیکھنے سے یہ پتہ چلا کہ کوئی مائع ہے ۔ پانی بھی ہو سکتا ہے اور کچھ بھی مائع ہو سکتا ہے ۔

لیکن جب اس کو چکھ لیا پی لیا ، پھر مکمل یقین ہو گیا کہ یہ واقعتا پانی ہے ۔ اسے حق الیقین کہتے ہیں کہ یقین تو پہلے بھی تھا ، جاننے کی حد تک ۔ دیکھ کر بھی مکمل نہ ہوا ۔ مگر جب اس کو چکھ لیا ، ذائقہ محسوس ہو گیا کہ پانی ہی ہے ، جاننے کا حق ادا ہوا تو حق الیقین بن گیا ۔