Wednesday, May 16, 2012

"Every Husband must Read This" ....Even wife can also...:)

    Love her …when she sips on your coffee or tea. She only wants to make sure it tastes just right for you.

    Love her…when she "pushes" you to pray. She wants to be with you in Jannah (Paradise).

    Love her…when she asks you to play with the kids. She did not "make" them on her own.

    Love her...when she is jealous. Out of all the men she can have, she chose you

    Love her…when she has annoying little habits that drives you nuts. You have them too.

    Love her…when her cooking is bad. She tries.

    Love her…when she looks dishevelled in the morning. She always grooms herself up again.

    Love her…when she asks to help with the kids homework. She only wants you to be part of the home.

    Love her...when she asks if she looks fat. Your opinion counts, so tell her she's beautiful.

    Love her…when she looks beautiful. She's yours so appreciate her.

    Love her...when she spends hours to get ready. She only wants to look her best for you.

    Love her…when she buys you gifts you don't like. Smile and tell her it's what you've always wanted.

    Love her…when she has developed a bad habit. You have many more and with wisdom and politeness you have all the time to help her change.

    Love her…when she cries for absolutely nothing. Don't ask, tell her its going to be okay

    Love her…when whatever you do is not pleasing. It happens and will pass

    Love her…when she stains your clothes. You needed a new one anyway :p

    Love her…when she tells you how to drive. She only wants you to be safe.

    Love her…when she argues. She only wants to make things right for both

    Love her…she is yours. You don't need any other special reason!!!!

    All this forms part of a Woman's Character. Women are part of your life and should be treated as the Queen.

    The Messenger of Allah (peace be upon him) advised concerning the woman:

    • Treat the women well.

    • The best of you are those who are the best in the treatment of their wives.

Thursday, April 26, 2012

حقيقت حسن

خدا سے حسن نے اک روز يہ سوال کيا
جہاں ميں کيوں نہ مجھے تو نے لازوال کيا
ملا جواب کہ تصوير خانہ ہے دنيا
شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنيا
ہوئي ہے رنگ تغير سے جب نمود اس کي
وہي حسيں ہے حقيقت زوال ہے جس کي
کہيں قريب تھا ، يہ گفتگو قمر نے سني
فلک پہ عام ہوئي ، اختر سحر نے سني
سحر نے تارے سے سن کر سنائي شبنم کو
فلک کي بات بتا دي زميں کے محرم کو
بھر آئے پھول کے آنسو پيام شبنم سے
کلي کا ننھا سا دل خون ہو گيا غم سے
چمن سے روتا ہوا موسم بہار گيا
شباب سير کو آيا تھا ، سوگوار گيا

Friday, April 13, 2012

Emotions


His wife is seriously injured. She was hit by a car as she swooped low across the road. 

He brought her food and tended to her with love and compassion.

He brought her food again but was shocked to find her dead.

He tried to move her....a rarely-seen effort for swallows.

Aware that his mate is dead, he cries with adoring love.

He stood beside her, saddened by her death.

Finally, he stood beside her body with sadness and sorrow.

People cried after seeing these pictures when they were published

in the leading newspaper in France. All copies of the paper were

sold out on the day the pictures were released.

And many people think animals don't have emotions.

Friday, March 30, 2012

Boomrang


ایک کہانی مثنوی مولانا روم کی ہے کہ کوئی چور تھا ، تو اس کے اندرکچھ پیسہ بنانے کی خواھش پیدا ہوئی، کیونکہ وہ اپنی محبوب بیوی کو کچھ دینا چاہتا تھا یا اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا تھا -
اس نے ایک رات ایک گھر کے روشن دان میں سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی کہ یہ اچھا گھر ہے ،اور مجھے یہاں سے کوئی مال و مطاع ملے گا ، لیکن جب وہ اتنا اونچا چڑھا ، اور روشن دان کے اندر سے گزرنے کی کوشش کی ، تو وہ روشن دان جس کا چوکھٹا بظاہر ٹھیک نظر آتا تھا ، ڈھیلا لگا تھا , وہ بمع چوکھٹے کے اندر کے فرش پر سر کے بل آگرا ، اور اس کو سخت چوٹیں آئیں ، چنانچہ اس نے وہ چوکھٹا اٹھایا اور قاضی وقت کے پاس شکایات کے لئے لے گیا - 
دیکھیں کیا کمال کے آدمی تھے - اس نے کہا ، جناب دیکھیں میں چوری کرنے کے لئے وہاں گیا تھا - یہ کیسا نالائق مستری ہے کہ جس نے ایسا چوکھٹا بنایا کہ یہ ٹوٹ گیا ہے ، اور کرچیاں کرچیاں ہو گئیں ہیں تو اس کو سزا ملنی چاہئے - 
قاضی وقت نے کہا ، یہ تو واقعی بری بات ہے - اس لکڑی بیچنے والے کو بلایا گیا ، چنانچہ وہ پیش ہوگیا - اس نے کہا ، جناب اس گھر کی کھڑکی تو میں نے بنائی تھی - اس سے کہا گیا تم نے ایسا قسم کی ناکارہ لکڑی لگائی - اس نے کہا جناب اس لکڑی کو بھی دیکھ لیں کسی سے ٹیسٹ کروائیں اس میں کوئی نقص نکلا تو میں ذمیدار ہوں - 
حضور بات یہ ہے کہ اس میں خرابی ہماری لکڑی کی نہیں اس ترکھان کی ہے جس نے یہ چوکھٹا ڈائیمنشن کے مطابق نہیں بنایا - 
انھوں نے ترکھان یا بڑھئی کو بلایا ہے وہ پیش ہوگیا - ترکھان نے کہا میں نے چوکھٹا بلکل ٹھیک بنایا ہے یہ میرا قصور نہیں آپ ماہرین بلوا لیں وہ بتادیں گے میرے چوکھٹے میں کوئی خرابی نہیں - میں یقین سے کہتا ہوں یہ چوکھٹا بلکل ٹھیک ہے - راج معمار جس نے اس کو فٹ کیا تھا یہ ساری کوتاہی اس کی ہے چنانچہ راج معمار کو بلوایا گیا وہ عدالت میں پیش ہوگیا - 
قاضی وقت نے کہا ، اے نالائق آدمی بہت اعلا درجے کا چوکھٹا بنا ہوا ہے ڈائی مینشن اس کی درست ہے تو نے کیوں "موکھا " اس کا ڈھیلا بنایا ، تو نے صحیح طور پر اسے فٹ کیوں نہیں کیا - 
اس نے سوچا واقعی عدالت ٹھیک پوچھ رہی ہے - چوکھٹے میں اور دیوار میں فاصلہ تو ہے - اس نے کہا حضور بات یہ ہے ، مجھے اب یاد آیا ، جب میں چوکھٹا لگا رہا تھا تو میں نے باہر سڑک پر دیکھا اس وقت ایک نہایت خوبصورت عورت اعلا درجے کا لباس پہنے ، بے حد رنگین لہنگا اور بے حد رنگین دوپٹہ اوڑھے جا رہی تھی ، مزے سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی ، تو میری توجہ اس کی طرف ہو گئی - جب تک وہ سڑک پر چلتی رہی میں اس کو دیکھتا رہا میں پوری توجہ نے دے سکا اور چوکھٹے کو صحیح طرح سے نہ لگا سکا - 

انھوں نے کہا اس عورت کو بلاؤ ، عورت کو سب تلاش کرنے لگے ، شہر میں سب جانتے تھے جو چھمک چھلو تھی کہ وہ وہی ہو گی سو عدالت میں پیش کر دیا گیا - 
پوچھا گیا کیا تم یہاں سے اس روز گزری تھیں ؟ کہا ہاں میں گزری تھی - اس نے کہا تم نے ایسا لہنگا پہنا ، ایسا غرارہ پہنا تھا ، تو کیوں پہنا تھا ؟ 
حضور بات یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھ سے کہا یہ تم کیا ڈل کلرز پہنتی ہو - یہ کچھ اچھے نہیں لگتے ، تمہارے رخ زیبا کے اوپر یہ کپڑے سجتے نہیں ہیں - بہت اعلا قسم کے شوخ ، اور بھڑکیلے قسم کے پہنو - 
عدالت نے کہا اس خاوند کو حاضر کیا جائے ، چنانچہ وہ اس کے خاوند کو پکڑ کر لے آئے ، عدالت کے سامنے پیش کر دیا - وہ خاوند وہی شخص تھا ، جو روشن دان سے چوری کرنے کے لئے اترا تھا- 
اس کی خواہش میں وہ خود کھڑا تھا - اتنا چکر کاٹ کر آدمی کو پتا نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا گزر رہی ہے - وہ کہاں پر اپنی ہی خواہش ، اپنی ہی آرزو کے درمیان کھڑا تھا - 

از اشفاق احمد زاویہ ١ 

Friday, March 16, 2012

کجا خود شکر ایں نعمت گزارم کہ زور مردم آزاری ندارم

میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مصر میں دو امیر زادے ر ہتے تھے۔ ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے مال و دولت جمع کیا۔ آخر کار ایک زمانے کا بہت بڑا عالم بن گیا اور دوسرے کو مصر کی بادشاہت مل گئی۔ بادشاہ بننے کے بعد اس نے اس عالم کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور کہا ”میں حکومت تک پہنچ گیا اور تیری قسمت میں غربت و مسکینی آئی۔ “
عالم نے کہا ” اے بھائی! مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر تجھ سے زیادہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے پیغمبروں کا ورثہ یعنی علم پایا اور تو نے فرعون و ہامان کی میراث  یعنی مصر کی حکومت پائی ہے۔ 

کجا خود شکر ایں نعمت گزارم کہ زور مردم آزاری ندارم

(میں اس نعمت کا شکر کیسے ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا
 یعنی بنی نوع انسان کو مجھ سے فائدہ پہنچتا ہے اور تجھ سے نقصان،
پس دیکھ لے خدا کا فضل کس پر زیادہ ہے۔)

Thursday, March 1, 2012

Android Antivirus Appriva


Free Android Antivirus Appriva Demo

Download directly from Android Market, for free: market.android.com

Appriva- An introduction

A Cloud based Andoird FREE AntiVirus, Security & Privacy Must Have App that will protect your phone from Trojans, Viruses, Spyware and all threats ...

Appriva- An introduction

first ever cloud base antivirus for android mobiles

Free Android Antivirus - Appriva Privacy Protector in Action

You can get it from Android market using this link, for free!!: market.android.com The first Android Cloud based Anti-Virus. Protects your phone ...




Monday, February 27, 2012

وقت وقت کی بات ہے


بزرگوں کو دینے کیلئے ہر چیز ہم خرید کر تو دے دیتے ہیں مگر ایک چیز جسکی شدید کمی ہے اور وہ وقت ہے جو ہم لوگ اپنے والدین اور بزرگوں نہیں دے پاتے ، کبھی انکی آنکھوں میں چھپی ہوئی یاسیت اور تکان کو پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ عید کا دن جہاں پیار محبت اور خوشیاں بانٹنے کا دن ہے وہاں نفرتوں ، ملامتوں اور ناراضگی کے مٹانے کا بھی دن ہے. اب تو ہر وہ دن عید کا دن ہے جب اولاد ماں باپ اور بزرگوں کے ساتھ گزاریں. ماں باپ کے لیے اس سے زیادہ خوشی کا دن کیا ہو سکتا ہے  ساری زندگی بچوں کے لیے قربان کرنے بعد آخری عمر میں انکا ساتھ مل جائے، چاہے ایک روز کے لیے ہی. آئیے اپنے اقربا اور احباب کی کھوئی ہوئی مسکان انکو لوٹا دیں جو کبھی کی رشتوں کی کڑواہٹ کے بھینٹ چڑھ چکی ہے.