Thursday, November 7, 2002

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

لگتا نہیں ہے جی مِرا اُجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں



بُلبُل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں



اِن حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں



اِک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بُلبُل ہے شادماں

کانٹے بِچھا دیتے ہیں دلِ لالہ زار میں



عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دِن

دو آرزو میں کٹ گئے، دو اِنتظار میں



دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہوگئی

پھیلا کے پائوں سوئیں گے کنج مزار میں



کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لئے

 دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں




Monday, January 8, 2001

خوبصورت

حضرت جنید بغدادی رح کے پاس ایک عورت آئی ، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے ؟

حضرت جنید بغدادی رح نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے -

اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپنا حسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت -

اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے - وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی -

حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی تو الله تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ :

اے جنید ! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت الله ہو اسے کسی اور کی کیا ضرورت ہے

Sunday, August 1, 1999

بیوقوفوں سے عقل سیکھو



بچہ سائیں بابا سے، بابا ! آپ نے دانائی کیونکر سیکھی

سائیں  بابا، مجھے بیوقوفوں نے دانائی سکھا دی


بچہ، بیوقوفوں سے دانائی کیونکر سیکھی جا سکتی ہے؟

سائیں بابا، جیسا بیوقوف کریں ویسا نہ کرو


بچہ، بیوقوف کی پہچان کیا ہے؟

سائیں بابا، بیوقوف یہ سمجھتا ہے کہ وہ عقلمند ہے


Friday, August 15, 1997

صبر ، شکر

ایک درویش نے دوسرے سے پوچھا
"تم نے یہ مقام کیونکر حاصل کیا"

"جب نہیں ملتا تو صبر کرتا ہوں ، اور جب مل جاتا ہے تو شکر کرتا ہوں"

"اور تم اس مقام پر کیں کر پہنچے"
پہلے نے استفسار کیا

"جب ملتا ہے تو شکر کرتا ہوں، اور جب نہیں ملتا ہے تو بھی شکر کرتا ہوں"

Monday, December 25, 1972

سچ کی تلاش

علم الیقین ، عین الیقین ، حق الیقین

علم کا معنی ہے جاننا ۔ یقین کا معنی ہے کسی ایک نقطہ پر جم جانا مکمل یکسوئی کے ساتھ ۔ اس علم کی مثال یوں ہے کہ ایک گھڑا ہے ، دور پڑا ہے ۔ صرف علم ہے کہ اس میں پانی ہے ۔ اس کو آنکھوں سے پاس جا کر نہیں دیکھا ۔ فقط علم کی حد تک ہے ۔ اس میں کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے ۔ فقط جاننے کی حد تک معلوم ہونا ، یہ علم الیقین ہے کہ اس میں پانی ہے ۔

اور جب نزدیک جا کراس کو آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اس میں پانی ہے تو یہ عین الیقین بن گیا۔لیکن مکمل بات اب بھی نہیں کہ دیگر مائعات پانی سے مماثلت رکھتی ہیں کہ وہ پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ مگر دیکھنے سے یہ پتہ چلا کہ کوئی مائع ہے ۔ پانی بھی ہو سکتا ہے اور کچھ بھی مائع ہو سکتا ہے ۔

لیکن جب اس کو چکھ لیا پی لیا ، پھر مکمل یقین ہو گیا کہ یہ واقعتا پانی ہے ۔ اسے حق الیقین کہتے ہیں کہ یقین تو پہلے بھی تھا ، جاننے کی حد تک ۔ دیکھ کر بھی مکمل نہ ہوا ۔ مگر جب اس کو چکھ لیا ، ذائقہ محسوس ہو گیا کہ پانی ہی ہے ، جاننے کا حق ادا ہوا تو حق الیقین بن گیا ۔