Friday, May 18, 2012

ماں - جلے ہوئے بسکٹ

جب میں چھوٹا ہوا کرتا تھا تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امی کو تو بس ایک ہی کام ہوتا تھا کہ جب بھی انہیں موقع اور وقت ملے تو مجھے کوئی نا کوئی اچھی سی چیز بنا کر کھلا دیا کریں۔

اور اس رات کو تو میں کبھی بھول ہی نہیں سکتا جب ایک لمبے تھکا دینے والے دن کے اختتام پر اور یقیناً تھکن سے چور میری امی نے شام کے کھانے کیلئے میز پر ہمارے سامنے میری پسندیدہ ڈش انڈوں کی پڈنگ اور ایک ٹرے میں جلے ہوئے بسکٹ رکھے تھے۔ میں نے تو دیکھ ہی لیا تھا مگر مجھے یاد ہے کہ میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی تو محسوس کرے کہ ہمارے سامنے رکھے ہوئے بسکٹ جلے ہوئے ہیں۔ مگر ابو نے تو امی کو بس مسکرا کر دیکھا اور انہیں ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کو کہا، پھر مجھ سے پوچھا کہ میرا سکول میں آج کا دن کیسا گزرا تھا؟ یہ تو مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے اپنا سکول میں گزرے دن کے بارے میں اُنکو کیا جواب دیا تھا مگر یہ ضرور یاد ہے کہ میں نے دیکھا تھا کہ ابو بسکٹ ایسے کھا رہے تھے کہ جیسے وہ جلے ہوئے ہوں ہی نہیں- بلکہ اس دن تو ابو نے اپنی سابقہ عادت سے بھی دو یا تین بسکٹ زیادہ ہی کھائے تھے۔

کھانے کی میز سے اُٹھ جانے کے بعد تجسس مجھے بے چین کر رہا تھا کہ آخر کار میں نے سُن ہی لیا امی کہہ رہی تھی، مجھے افسوس ہے کہ آج اوون میں بسکٹ جل گئے تھے۔ اور ابو کہہ رہے تھے نہیں تو، اچھے خاصے تو تھے، ویسے بھی مجھے جلے ہوئے بسکٹ اچھے لگتے ہیں۔ اور جب ابو اپنے کمرے میں جا چکے اور امی میز سے برتن اُٹھا رہی تھیں تو میں چپکے سے ابو کے کمرے میں گیا جہاں ابو پلنگ پر دراز ہو رہے تھے۔ میں نے ابو کو شب بخیر کہا اور پوچھا، ابو کیا آپ کو واقعی جلے ہوئے بسکٹ اچھے لگتے ہیں؟

ابو نے مجھے بھی اپنے پلنگ پر اپنے ساتھ لٹا لیا اور مجھے کہا؛ آج تمہاری امی نے بہت سے کام کیئے تھے، کپڑے دھونے سے لیکر برتن دھونے، گھر کی صفائی اور کھانا پکانے تک۔ وہ یقیناً اس سارے کام سے بہت زیادہ تھکی ہوئی ہیں اور ویسے بھی اگر انسان تھوڑے سے جلے ہوئے بسکٹ کھا بھی لے تو اُسے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

ہماری زندگی بھی بہت سی غیر مثالی باتوں، کاموں، چیزوں اور لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور میں بھی تو لگ بھگ انہی جیسا ہی ایک خطاکار اور غلطیاں کرنے والا انسان ہوں۔ اور تو اور، لوگوں کو اُن کے اچھے دنوں پر مبارکباد تک کہنا بھی بھول جاتا ہوں۔

اس گزرتے وقت سے جو کچھ میں نے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی خطائیں اور غلطیاں قبول کرنے کی عادت کو سیکھنا چاہیئے۔ ہمیں ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے اختلافات، کمیوں اور کوتاہیوں سمیت قبول کرنا چاہیئے۔ اور یہی بات تعلقات کو مضبوط اور رشتوں کو استوار رکھنے کی چابی ہے۔

میری آپ کیلئے خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں اچھے اور برے کی تمیز تو ضرور پیدا کیجیئے اور اچھائیوں کو پاس رکھتے ہوئے بری اور بدصورت چیزوں کو محو کرتے رہیئے مگر اللہ کی ذات پر مکمل بھروسے اور یقین کے ساتھ، کیونکہ آخر میں صرف اُسی کی ذات ہی تو ہے جو آپ کے تعلقات پر جلے ہوئے بسکٹوں کو اثرانداز ہونے سے محفوظ رکھے گی۔ اس کہانی کو ہم اپنی زندگی میں ہر قسم کے تعلقات کیلئے استعمال کر سکتے ہیں چاہے وہ میاں بیوی کے درمیاں تعلقات ہوں یا یاری اور دوستی کے تعلق۔ یاد رکھئیے گا کہ خوشیوں کی چابی ہمیشہ آپکے ہی پاس ہو نا کہ کسی اور کی جیب میں۔
اور ہمیشہ ایک دوسرے کو بسکٹ وغیرہ دیتے لیتے رہیئے خواہ وہ تھوڑے سے جلے ہوئے ہی کیوں ناں ہوں۔
(مآخوذ)

thanks to hajisahb from china

 

Wednesday, May 16, 2012

"Every Husband must Read This" ....Even wife can also...:)

    Love her …when she sips on your coffee or tea. She only wants to make sure it tastes just right for you.

    Love her…when she "pushes" you to pray. She wants to be with you in Jannah (Paradise).

    Love her…when she asks you to play with the kids. She did not "make" them on her own.

    Love her...when she is jealous. Out of all the men she can have, she chose you

    Love her…when she has annoying little habits that drives you nuts. You have them too.

    Love her…when her cooking is bad. She tries.

    Love her…when she looks dishevelled in the morning. She always grooms herself up again.

    Love her…when she asks to help with the kids homework. She only wants you to be part of the home.

    Love her...when she asks if she looks fat. Your opinion counts, so tell her she's beautiful.

    Love her…when she looks beautiful. She's yours so appreciate her.

    Love her...when she spends hours to get ready. She only wants to look her best for you.

    Love her…when she buys you gifts you don't like. Smile and tell her it's what you've always wanted.

    Love her…when she has developed a bad habit. You have many more and with wisdom and politeness you have all the time to help her change.

    Love her…when she cries for absolutely nothing. Don't ask, tell her its going to be okay

    Love her…when whatever you do is not pleasing. It happens and will pass

    Love her…when she stains your clothes. You needed a new one anyway :p

    Love her…when she tells you how to drive. She only wants you to be safe.

    Love her…when she argues. She only wants to make things right for both

    Love her…she is yours. You don't need any other special reason!!!!

    All this forms part of a Woman's Character. Women are part of your life and should be treated as the Queen.

    The Messenger of Allah (peace be upon him) advised concerning the woman:

    • Treat the women well.

    • The best of you are those who are the best in the treatment of their wives.

Thursday, April 26, 2012

حقيقت حسن

خدا سے حسن نے اک روز يہ سوال کيا
جہاں ميں کيوں نہ مجھے تو نے لازوال کيا
ملا جواب کہ تصوير خانہ ہے دنيا
شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنيا
ہوئي ہے رنگ تغير سے جب نمود اس کي
وہي حسيں ہے حقيقت زوال ہے جس کي
کہيں قريب تھا ، يہ گفتگو قمر نے سني
فلک پہ عام ہوئي ، اختر سحر نے سني
سحر نے تارے سے سن کر سنائي شبنم کو
فلک کي بات بتا دي زميں کے محرم کو
بھر آئے پھول کے آنسو پيام شبنم سے
کلي کا ننھا سا دل خون ہو گيا غم سے
چمن سے روتا ہوا موسم بہار گيا
شباب سير کو آيا تھا ، سوگوار گيا

Friday, April 13, 2012

Emotions


His wife is seriously injured. She was hit by a car as she swooped low across the road. 

He brought her food and tended to her with love and compassion.

He brought her food again but was shocked to find her dead.

He tried to move her....a rarely-seen effort for swallows.

Aware that his mate is dead, he cries with adoring love.

He stood beside her, saddened by her death.

Finally, he stood beside her body with sadness and sorrow.

People cried after seeing these pictures when they were published

in the leading newspaper in France. All copies of the paper were

sold out on the day the pictures were released.

And many people think animals don't have emotions.

Friday, March 30, 2012

Boomrang


ایک کہانی مثنوی مولانا روم کی ہے کہ کوئی چور تھا ، تو اس کے اندرکچھ پیسہ بنانے کی خواھش پیدا ہوئی، کیونکہ وہ اپنی محبوب بیوی کو کچھ دینا چاہتا تھا یا اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا تھا -
اس نے ایک رات ایک گھر کے روشن دان میں سے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی کہ یہ اچھا گھر ہے ،اور مجھے یہاں سے کوئی مال و مطاع ملے گا ، لیکن جب وہ اتنا اونچا چڑھا ، اور روشن دان کے اندر سے گزرنے کی کوشش کی ، تو وہ روشن دان جس کا چوکھٹا بظاہر ٹھیک نظر آتا تھا ، ڈھیلا لگا تھا , وہ بمع چوکھٹے کے اندر کے فرش پر سر کے بل آگرا ، اور اس کو سخت چوٹیں آئیں ، چنانچہ اس نے وہ چوکھٹا اٹھایا اور قاضی وقت کے پاس شکایات کے لئے لے گیا - 
دیکھیں کیا کمال کے آدمی تھے - اس نے کہا ، جناب دیکھیں میں چوری کرنے کے لئے وہاں گیا تھا - یہ کیسا نالائق مستری ہے کہ جس نے ایسا چوکھٹا بنایا کہ یہ ٹوٹ گیا ہے ، اور کرچیاں کرچیاں ہو گئیں ہیں تو اس کو سزا ملنی چاہئے - 
قاضی وقت نے کہا ، یہ تو واقعی بری بات ہے - اس لکڑی بیچنے والے کو بلایا گیا ، چنانچہ وہ پیش ہوگیا - اس نے کہا ، جناب اس گھر کی کھڑکی تو میں نے بنائی تھی - اس سے کہا گیا تم نے ایسا قسم کی ناکارہ لکڑی لگائی - اس نے کہا جناب اس لکڑی کو بھی دیکھ لیں کسی سے ٹیسٹ کروائیں اس میں کوئی نقص نکلا تو میں ذمیدار ہوں - 
حضور بات یہ ہے کہ اس میں خرابی ہماری لکڑی کی نہیں اس ترکھان کی ہے جس نے یہ چوکھٹا ڈائیمنشن کے مطابق نہیں بنایا - 
انھوں نے ترکھان یا بڑھئی کو بلایا ہے وہ پیش ہوگیا - ترکھان نے کہا میں نے چوکھٹا بلکل ٹھیک بنایا ہے یہ میرا قصور نہیں آپ ماہرین بلوا لیں وہ بتادیں گے میرے چوکھٹے میں کوئی خرابی نہیں - میں یقین سے کہتا ہوں یہ چوکھٹا بلکل ٹھیک ہے - راج معمار جس نے اس کو فٹ کیا تھا یہ ساری کوتاہی اس کی ہے چنانچہ راج معمار کو بلوایا گیا وہ عدالت میں پیش ہوگیا - 
قاضی وقت نے کہا ، اے نالائق آدمی بہت اعلا درجے کا چوکھٹا بنا ہوا ہے ڈائی مینشن اس کی درست ہے تو نے کیوں "موکھا " اس کا ڈھیلا بنایا ، تو نے صحیح طور پر اسے فٹ کیوں نہیں کیا - 
اس نے سوچا واقعی عدالت ٹھیک پوچھ رہی ہے - چوکھٹے میں اور دیوار میں فاصلہ تو ہے - اس نے کہا حضور بات یہ ہے ، مجھے اب یاد آیا ، جب میں چوکھٹا لگا رہا تھا تو میں نے باہر سڑک پر دیکھا اس وقت ایک نہایت خوبصورت عورت اعلا درجے کا لباس پہنے ، بے حد رنگین لہنگا اور بے حد رنگین دوپٹہ اوڑھے جا رہی تھی ، مزے سے اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی ، تو میری توجہ اس کی طرف ہو گئی - جب تک وہ سڑک پر چلتی رہی میں اس کو دیکھتا رہا میں پوری توجہ نے دے سکا اور چوکھٹے کو صحیح طرح سے نہ لگا سکا - 

انھوں نے کہا اس عورت کو بلاؤ ، عورت کو سب تلاش کرنے لگے ، شہر میں سب جانتے تھے جو چھمک چھلو تھی کہ وہ وہی ہو گی سو عدالت میں پیش کر دیا گیا - 
پوچھا گیا کیا تم یہاں سے اس روز گزری تھیں ؟ کہا ہاں میں گزری تھی - اس نے کہا تم نے ایسا لہنگا پہنا ، ایسا غرارہ پہنا تھا ، تو کیوں پہنا تھا ؟ 
حضور بات یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھ سے کہا یہ تم کیا ڈل کلرز پہنتی ہو - یہ کچھ اچھے نہیں لگتے ، تمہارے رخ زیبا کے اوپر یہ کپڑے سجتے نہیں ہیں - بہت اعلا قسم کے شوخ ، اور بھڑکیلے قسم کے پہنو - 
عدالت نے کہا اس خاوند کو حاضر کیا جائے ، چنانچہ وہ اس کے خاوند کو پکڑ کر لے آئے ، عدالت کے سامنے پیش کر دیا - وہ خاوند وہی شخص تھا ، جو روشن دان سے چوری کرنے کے لئے اترا تھا- 
اس کی خواہش میں وہ خود کھڑا تھا - اتنا چکر کاٹ کر آدمی کو پتا نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ کیا گزر رہی ہے - وہ کہاں پر اپنی ہی خواہش ، اپنی ہی آرزو کے درمیان کھڑا تھا - 

از اشفاق احمد زاویہ ١ 

Friday, March 16, 2012

کجا خود شکر ایں نعمت گزارم کہ زور مردم آزاری ندارم

میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مصر میں دو امیر زادے ر ہتے تھے۔ ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے مال و دولت جمع کیا۔ آخر کار ایک زمانے کا بہت بڑا عالم بن گیا اور دوسرے کو مصر کی بادشاہت مل گئی۔ بادشاہ بننے کے بعد اس نے اس عالم کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور کہا ”میں حکومت تک پہنچ گیا اور تیری قسمت میں غربت و مسکینی آئی۔ “
عالم نے کہا ” اے بھائی! مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر تجھ سے زیادہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے پیغمبروں کا ورثہ یعنی علم پایا اور تو نے فرعون و ہامان کی میراث  یعنی مصر کی حکومت پائی ہے۔ 

کجا خود شکر ایں نعمت گزارم کہ زور مردم آزاری ندارم

(میں اس نعمت کا شکر کیسے ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا
 یعنی بنی نوع انسان کو مجھ سے فائدہ پہنچتا ہے اور تجھ سے نقصان،
پس دیکھ لے خدا کا فضل کس پر زیادہ ہے۔)

Thursday, March 1, 2012

Android Antivirus Appriva


Free Android Antivirus Appriva Demo

Download directly from Android Market, for free: market.android.com

Appriva- An introduction

A Cloud based Andoird FREE AntiVirus, Security & Privacy Must Have App that will protect your phone from Trojans, Viruses, Spyware and all threats ...

Appriva- An introduction

first ever cloud base antivirus for android mobiles

Free Android Antivirus - Appriva Privacy Protector in Action

You can get it from Android market using this link, for free!!: market.android.com The first Android Cloud based Anti-Virus. Protects your phone ...